آستیں میں سانپ اک پلتا رہا
آستیں میں سانپ اک پلتا رہاہم یہ سمجھے حادثہ ٹلتا رہا
آپ تو اک بات کہہ کر چل دیےرات بھر بستر مرا جلتا رہا
ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی
مہمان شاعر: باقی صدیقی
آستیں میں سانپ اک پلتا رہاہم یہ سمجھے حادثہ ٹلتا رہا
آپ تو اک بات کہہ کر چل دیےرات بھر بستر مرا جلتا رہا
تم کب تھے قریب اتنے میں کب دور رہا ہوںچھوڑو نہ کرو بات کہ میں تم سے خفا ہوں
رہنے دو کہ اب تم بھی مجھے پڑھ نہ سکو گےبرسات میں کاغذ کی طرح بھیگ گیا ہوں
رسم سجدہ بھی اٹھا دی ہم نےعظمت عشق بڑھا دی ہم نے
جب کوئی تازہ شگوفہ پھوٹاکی گلستاں میں منادی ہم نے
یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیںان میں کچھ صاحب اسرار نظر آتے ہیں
تیری محفل کا بھرم رکھتے ہیں سو جاتے ہیںورنہ یہ لوگ تو بیدار نظر آتے ہیں
وفا کے زخم ہم دھونے نہ پائےبہت روئے مگر رونے نہ پائے
کچھ اتنا شور تھا شہر سبا میںمسافر رات بھر سونے نہ پائے
یہ وفا تو ان دنوں کی بات ہے فرازجب مکان کچے اور لوگ سچے ہوا کرتے تھے
ہوا ہے تجھ سے بچھڑنے کے بعد یہ معلومکہ تو نہیں تھا ترے ساتھ ایک دنیا تھی
اب کے رت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کونزخم پھولوں کی طرح مہکیں گے پر دیکھے گا کون
دیکھنا سب رقص بسمل میں مگن ہو جائیں گےجس طرف سے تیر آئے گا ادھر دیکھے گا کون
دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والاوہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا
اب اسے لوگ سمجھتے ہیں گرفتار مراسخت نادم ہے مجھے دام میں لانے والا
تجھے اظہار محبت سے اگر نفرت ہےتو نے ہونٹوں کو لرزنے سے تو روکا ہوتا
بے نیازی سے مگر کانپتی آواز کے ساتھتو نے گھبرا کے مرا نام نہ پوچھا ہوتا
میری تقدیر میں جلنا ہے تو جل جاؤں گاتیرا وعدہ تو نہیں ہوں کہ بدل جاؤں گا
رحم آیا نہ اگر تجھ کو تو اک دن میں بھیسر کو رکھ کر ترے قدموں پہ مچل جاؤں گا