نالاں بھی ہے جو لب پہ لیے التماس ہے
نالاں بھی ہے جو لب پہ لیے التماس ہے
تیرے دہن کی آج بھی پانی کو پیاس ہے
تطہیر کی مہک سے معطر ہے یہ فضا
لگتا ہے کربلا ہی یہیں آس پاس ہے
اوروں کو ہوں گی عشرتِ دنیا سے رغبتیں
مولا حسین مجھ کو ترا غم ہی راس ہے
سارے امام ہیں مرے جس گل کی پتیاں
آنا ہے جس کو وہ بھی اسی گل کی باس ہے
تنویر دانش