زلفِ برہم میں خم زیادہ ہے
زلفِ برہم میں خم زیادہ ہے
تو جو کہتا تھا کم زیادہ ہے
کس نے تقسیم کی وراثت کی
میرےحصے میں غم ذیادہ ہے
اپنے لہجے پہ آج غور تو کر
تیرے لہجے میں ،ہم، زیادہ ہے
ناقد ہجر کے سبو میں ابھی
اشک تھوڑے ہیں رم زیادہ ہے
سن یہ شکوہ ہے تیری پاٸل کا
چھن یہ کہتی ہے چھم زیادہ ہے
کیا ہوا آج کیا ہوا دانش
آج کچھ آنکھ نم زیادہ ہے
تنویر دانش