بے گھری ہے کہاں ٹھکانا ہے
بے گھری ہے کہاں ٹھکانا ہے
کیا خبر کتنی دور جانا ہے
آپ یہ بوجھ کہہ رہے ہیں جسے
ہم نے اک عمر تک اٹھانا ہے
اس کی حرمت پہ حرف آتے ہی
ہم فقیروں نے ہار جانا ہے
ہم کسی اور ہی زمانے سے
یہ کوئی اور ہی زمانا ہے
ہم کو زخموں کی فکر لاحق ہے
آپ نے قافیہ نبھانا ہے
یہ جو خاموش ہے یہ دانش ہے
شہر نے غلغلا مچانا ہے
تنویر دانش