محبت جب ضروری تھی
محبت جب ضروری تھی
محبت ہی ادھوری تھی
ادھورے خواب آنکھوں میں
ادھوری لو چراغوں کی
ابھی یہ وقت آیا ہے
وہی تم ہو وہی ہم ہیں
وہی رشتہ ادھورا سا
وہی باتیں ادھوری سی
مگر یہ جو محبت ہے
یہ اب بھی تو ادھوری ہے
یہ کل بھی تو ادھوری تھی
تنویر دانش