ترا نہ ذکر کرے بار بار لوگوں میں
ترا نہ ذکر کرے بار بار لوگوں میں
ہوا سے کہہ دو ذرا ہوشیار لوگوں میں
طلب نے شعر کی شہرت سے بے نیاز کیا
مرا شمار نہ کر بے شمار لوگوں میں
کواڑ کھول کے یہ کس کی راہ تکتے ہیں
یہ کون بانٹ گیا انتظار لوگوں میں
اداسیوں کو اماں ڈھونڈنی پڑے گی کہیں
جو اس نے بانٹ دیا کچھ خمار لوگوں میں
تنویر دانش