اس نے کچھ دیر محبت کی اداکاری کی
اس نے کچھ دیر محبت کی اداکاری کی
دلِ خوش فہم نے بھی خوب طرف داری کی
ثانیِ قیس مجھے دشت نوردوں نے کہا
حضرتِ عشق نے کیا خوب سند جاری کی
ہم بضد تھے کہ کوئی بات نہیں کرنی تجھ سے
دل نے سینے میں دھڑکتے ہوئے غداری کی
عشق پیشہ ہیں یہی کام ہمیں آتا ہے
ہجر سے نکلے اک ہجر کی تیاری کی
اب تو ہر ذرہِ صحرا بھی مجھے جانتا ہے
صاحب دشت کی اک عمر نمک خواری کی
قہقہوں میں جو کئی رنج چھپائے ہم نے
اس طرف داد بڑھا ہم نے بھی فنکاری کی
اور چرچا نہ کرے بات کرے دانش سے
دل نے دھڑکن سے کہا دل نے سمجھ داری کی
تنویر دانش