میں چاہتا ہوں کوٸی دشت میں جلاے چراغ
میں چاہتا ہوں کوٸی دشت میں جلاے چراغ
مگر یہ شرط نہ کچھ بھی جلے سواے چراغ
ہم آخری تھے میاں اب کے قحط سے پہلے
ہمارے بعد ہمیں ڈھونڈنے کو آے چراغ
ابھی ہوا نے تو بدلے ہی تھے ذرا تیور
کہ ہم بھی دوڑ پڑے اور کہا کہ ہاے چراغ
شعور اب بھی کہیں راستے میں اونگتا ہے
جنوں پہ آٸے ہوٸے عشق نے جلاے چراغ
یہ سوچتے ہیں کہ کوزہ گری کریں اس سے
ہماری خاک ہی ٹھہرے گی اب بِناے چراغ
تنویر دانش