تری گلی کے جنہیں بام و در دکھائے گئے
تری گلی کے جنہیں بام و در دکھائے گئے
کلیجہ تھام کے کہنے لگے کہ ہاٸے گٸے
ہجوم رقص میں رہتا ہے تیری یادوں کا
کہ ہم تو ہجر سے بیکار میں ڈراٸے گٸے
ہمارے نام سے تم کو پکارا جانے لگا
تمہارٕے شہر میں دو چار بار آٸے گٸے
جنابِ من ہمیں نوکِ سناں سے نسبت ہے
وہ اور لوگ تھے تخت پر بٹھاٸے گٸے
ہمارا کام چلایا تمہاری آنکھوں نے
یہ آٸینے تو بہت بعد میں بناٸے گٸے
ہماری آنکھ سے لالی ادھار مانگی گٸی
تمہارے ہاتھ میری جان جب حناٸے گٸے
یہ جن کو اپنی دکاں میں سجائے پھرتے ہو
یہ سارے خواب مری آنکھ سے چرائے گئے
تنویر دانش