دستِ بیزار سے یونہی نہ اچھالے جاتے
دستِ بیزار سے یونہی نہ اچھالے جاتے
ہم جو کچھ ہوتے مرے یار سنبھالے جاتے
ہم جو طاقوں سے گرائے ہوئے کچھ کشتہ چراغ
کل تھے پاتال تلک اپنے اجالے جاتے
ہم ہیں یخ بحر کہ خاموش پڑے رہتے ہیں
ہوتے طغیاں تو کیا کچھ نہ بہا لے جاتےہ
اتنی درکار فقط رقصِ رگِ و قلب رہے
پھر سہولت سے ترے چاہنے والے جاتے
ایک مدت سے پڑے ہیں تو پڑے ہیں دانش
کاش یوسف کی طرح ہم بھی نکالے جاتے
تنویر دانش