مجھے تلاش کرو
کلام: احمد ندیم قاسمی
شجر سے ٹوٹ کے جب میں گرا کہاں پہ گرامجھے تلاش کرو
جن آندھیوں نے مری سر زمیں ادھیڑی تھیوہ آج مولد عیسیٰ میں گرد اڑاتی ہیں
فرشتہ مرا معیار نہیں ہو سکتا (احمد ندیم قاسمی)
مہمان شاعر: احمد ندیم قاسمی
شجر سے ٹوٹ کے جب میں گرا کہاں پہ گرامجھے تلاش کرو
جن آندھیوں نے مری سر زمیں ادھیڑی تھیوہ آج مولد عیسیٰ میں گرد اڑاتی ہیں
اب تو شہروں سے خبر آتی ہے دیوانوں کیکوئی پہچان ہی باقی نہیں ویرانوں کی
اپنی پوشاک سے ہشیار کہ خدام قدیمدھجیاں مانگتے ہیں اپنے گریبانوں کی