12 اشعار

مجھے تلاش کرو

Mujhe talash karo

مجھے تلاش کرو

«مجھے تلاش کرو» احمد ندیم قاسمی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «فرشتہ مرا معیار نہیں ہو سکتا (احمد ندیم قاسمی)» میں 19 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 23 سیکنڈ ہے۔

شجر سے ٹوٹ کے جب میں گرا کہاں پہ گرامجھے تلاش کرو

جن آندھیوں نے مری سر زمیں ادھیڑی تھیوہ آج مولد عیسیٰ میں گرد اڑاتی ہیں

جو ہو سکے تو انہی سے مرا پتہ پوچھومجھے تلاش کرو

چلی جو مشرق و مغرب سے تند و تیز ہوامرے شجر نے مجھے پیار سے سمیٹ لیا

مجھے لپیٹ لیا اپنی کتنی باہوں میںیہ بے لحاظ عناصر مگر بضد ہی رہے

میں برگ سبز گرا برگ زرد کی ماننداسی سلگتی ہوئی راکھ سی پتاور میں

جو بچھ رہی ہے افق سے افق کے پار تلکمجھے تلاش کرو

شجر سے کٹ کے زباں کٹ گئی نہ ہو میریمیں چیختا ہوں مگر حرف ناشنیدہ ہوں

حیات تازہ ہے میری شجر سے میرا ملاپکہ بس وہی مری بالیدگی کا منبع ہے

جو ریگزار میں چھتنار دیکھنے ہیں تمہیںمجھے تلاش کرو

فلک کے راز تو کھلتے رہیں گے ہم نفسومرے وجود کا بھی اب تو راز فاش کرو

مجھے تلاش کرو

— احمد ندیم قاسمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں