8 اشعار

اب تو شہروں سے خبر آتی ہے دیوانوں کی

Ab to shahron se khabar aati hai deewanon ki

اب تو شہروں سے خبر آتی ہے دیوانوں کی

«اب تو شہروں سے خبر آتی ہے دیوانوں کی» احمد ندیم قاسمی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «فرشتہ مرا معیار نہیں ہو سکتا (احمد ندیم قاسمی)» میں 19 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

اب تو شہروں سے خبر آتی ہے دیوانوں کیکوئی پہچان ہی باقی نہیں ویرانوں کی

اپنی پوشاک سے ہشیار کہ خدام قدیمدھجیاں مانگتے ہیں اپنے گریبانوں کی

صنعتیں پھیلتی جاتی ہیں مگر اس کے ساتھسرحدیں ٹوٹتی جاتی ہیں گلستانوں کی

دل میں وہ زخم کھلے ہیں کہ چمن کیا شے ہےگھر میں بارات سی اتری ہوئی گل دانوں کی

ان کو کیا فکر کہ میں پار لگا یا ڈوبابحث کرتے رہے ساحل پہ جو طوفانوں کی

تیری رحمت تو مسلم ہے مگر یہ تو بتاکون بجلی کو خبر دیتا ہے کاشانوں کی

مقبرے بنتے ہیں زندوں کے مکانوں سے بلندکس قدر اوج پہ تکریم ہے انسانوں کی

ایک اک یاد کے ہاتھوں پہ چراغوں بھرے طشتکعبۂ دل کی فضا ہے کہ صنم خانوں کی

— احمد ندیم قاسمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں