ریکارڈ شدہ ایکس سپیس 13 فروری 2026

مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر

مہمان شاعر: جاوید اختر

15
سپیکرز
290
سامعین

سپیکرز

کسی سپیکر کو منتخب کریں — ان کا پیش کردہ کلام نیچے

جاوید اختر — مہمان شاعر

جاوید اختر برصغیر کے اُن ممتاز ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے شاعری، نغمہ نگاری اور فلمی کہانی نویسی کے میدان میں غیر معمولی مقام حاصل کیا۔ وہ 17 جنوری 1945ء کو گوالیار میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد جان نثار اختر نامور شاعر اور فلمی نغمہ نگار تھے جبکہ والدہ صفیہ اختر ادبی ذوق رکھنے والی مصنفہ تھیں۔ ان کے دادا مضطر خیرآبادی بھی اپنے عہد کے معروف شاعر تھے، اس طرح ادب ان کے خاندانی مزاج میں شامل تھا۔ بچپن میں ان کا نام ’’جادو‘‘ رکھا گیا، جو بعد میں بدل کر جاوید اختر ہوا اور یہی نام آگے چل کر شناخت بن گیا۔ مختلف شہروں میں تعلیم کے دوران ان کے اندر تخلیقی شعور پختہ ہوتا گیا اور انہوں نے کم عمری ہی میں تحریر و ادب کو اپنی زندگی کا راستہ بنا لیا۔1964ء میں محض انیس برس کی عمر میں وہ بہتر مستقبل کی تلاش میں ممبئی پہنچے۔ ابتدائی زمانہ نہایت کٹھن تھا؛ بے روزگاری، فاقہ کشی اور بے گھری تک کے مراحل آئے، مگر مستقل مزاجی نے انہیں فلمی دنیا میں قدم جمانے کا حوصلہ دیا۔ انہوں نے معاون اسکرپٹ رائٹر کے طور پر...

مکمل تعارف اور کلام ‹