کیوں زندگی کی راہ میں مجبور ہوگئے
کلام: جاوید اختر
کیوں زندگی کی راہ میں مجبور ہوگئےاتنے ہوئے قریب کہ ہم دور ہو گئے
ایسا نہیں کہ ہم کو کوئی بھی خوشی نہیںلیکن یہ زندگی تو کوئی زندگی نہیں
مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر
مہمان شاعر: جاوید اختر
کیوں زندگی کی راہ میں مجبور ہوگئےاتنے ہوئے قریب کہ ہم دور ہو گئے
ایسا نہیں کہ ہم کو کوئی بھی خوشی نہیںلیکن یہ زندگی تو کوئی زندگی نہیں
جب آئینہ کوئی دیکھو اک اجنبی دیکھوکہاں پہ لائی ہے تم کو یہ زندگی دیکھو
محبتوں میں کہاں اپنے واسطے فرصتجسے بھی چاہے وہ چاہے مری خوشی دیکھو