مثال اس کی کہاں ہے کوئی زمانے میں
کلام: جاوید اختر
مثال اس کی کہاں ہے کوئی زمانے میںکہ سارے کھونے کے غم پائے ہم نے پانے میں
وہ شکل پگھلی تو ہر شے میں ڈھل گئی جیسےعجیب بات ہوئی ہے اسے بھلانے میں
مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر
مہمان شاعر: جاوید اختر
مثال اس کی کہاں ہے کوئی زمانے میںکہ سارے کھونے کے غم پائے ہم نے پانے میں
وہ شکل پگھلی تو ہر شے میں ڈھل گئی جیسےعجیب بات ہوئی ہے اسے بھلانے میں
دست بردار اگر آپ غضب سے ہو جائیںہر ستم بھول کے ہم آپ کے اب سے ہو جائیں
چودھویں شب ہے تو کھڑکی کے گرا دو پردےکون جانے کہ وہ ناراض ہی شب سے ہو جائیں