درد اپناتا ہے پرائے کون
کلام: جاوید اختر
درد اپناتا ہے پرائے کونکون سنتا ہے اور سنائے کون
کون دہرائے پھر وہی باتیںغم ابھی سویا ہے جگائے کون
مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر
مہمان شاعر: جاوید اختر
درد اپناتا ہے پرائے کونکون سنتا ہے اور سنائے کون
کون دہرائے پھر وہی باتیںغم ابھی سویا ہے جگائے کون
دل میں مہک رہے ہیں کسی آرزو کے پھولپلکوں پہ کھلنے والے ہیں شاید لہو کے پھول
اب تک ہے کوئی بات مجھے یاد حرف حرفاب تک میں چن رہا ہوں کسی گفتگو کے پھول
دل کا ہر درد کھو گیا جیسےمیں تو پتھر کا ہو گیا جیسے
داغ باقی نہیں کہ نقش کہوںکوئی دیوار دھو گیا جیسے
جدھر جاتے ہیں سب جانا ادھر اچھا نہیں لگتامجھے پامال رستوں کا سفر اچھا نہیں لگتا
غلط باتوں کو خاموشی سے سننا حامی بھر لینابہت ہیں فائدے اس میں مگر اچھا نہیں لگتا