دل میں دھڑکن ہے نہ آنکھوں میں نظر باقی ہے
کلام: کامل شطاری
دل میں دھڑکن ہے نہ آنکھوں میں نظر باقی ہےپھر بھی سب کچھ ہے غم یار اگر باقی ہے
اور کچھ لوٹ لے افتاد محبت کے مزےکچھ تماشا جو ابھی شعبدہ گر باقی ہے
معراج بندگی کا وہی تو مقام ہے کامل شطاری
مہمان شاعر: کامل شطاری
دل میں دھڑکن ہے نہ آنکھوں میں نظر باقی ہےپھر بھی سب کچھ ہے غم یار اگر باقی ہے
اور کچھ لوٹ لے افتاد محبت کے مزےکچھ تماشا جو ابھی شعبدہ گر باقی ہے