9 اشعار

دل میں دھڑکن ہے نہ آنکھوں میں نظر باقی ہے

Dil mein dhadkan hai na aankhon mein nazar baqi hai

دل میں دھڑکن ہے نہ آنکھوں میں نظر باقی ہے

«دل میں دھڑکن ہے نہ آنکھوں میں نظر باقی ہے» کامل شطاری کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «معراج بندگی کا وہی تو مقام ہے کامل شطاری» میں 27 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

دل میں دھڑکن ہے نہ آنکھوں میں نظر باقی ہےپھر بھی سب کچھ ہے غم یار اگر باقی ہے

اور کچھ لوٹ لے افتاد محبت کے مزےکچھ تماشا جو ابھی شعبدہ گر باقی ہے

ہم کسی اور کی دہلیز پہ سر کیوں پھوڑیںسر سودا زدہ باقی ترا در باقی ہے

قوت عشق پہ تکیہ بھی ہے توہین نیازکیوں ابھی تک مری آہوں میں اثر باقی ہے

جتنے در بند ہیں اللہ کرے بند رہیںتیرے بندوں کے لئے جب ترا در باقی ہے

اور کچھ حق جنوں ہے تو ادا کر دیں گےایک بھی تار گریباں میں اگر باقی ہے

پستیٔ عقل ہے تاریکیٔ قسمت کا سوالشب یہ کہتی ہے کہ ہنگام سحر باقی ہے

عیب کو عیب سمجھنا تو نئی بات نہیںعیب یہ بھی ہے کہ احساس ہنر باقی ہے

بیڑیاں کٹ گئیں ہر پائے نگہ کی کاملؔاب تو بے قید بس اک ذوق نظر باقی ہے

— کامل شطاری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں