بے فکر جی رہا ہوں ہر اک اعتبار سے
کلام: کامل شطاری
بے فکر جی رہا ہوں ہر اک اعتبار سےنسبت بھی کیسی چیز ہے داماں یار سے
دامن رفو کروں کہ گریباں رفو کروںجوش جنوں میں کس کو سیؤں کس کے تار سے
معراج بندگی کا وہی تو مقام ہے کامل شطاری
مہمان شاعر: کامل شطاری
بے فکر جی رہا ہوں ہر اک اعتبار سےنسبت بھی کیسی چیز ہے داماں یار سے
دامن رفو کروں کہ گریباں رفو کروںجوش جنوں میں کس کو سیؤں کس کے تار سے
بیت الحرم کے ساتھ نہ بیت الصنم کے ساتھجیتا ہوں اک حقیقت بے کیف و کم کے ساتھ
محسوس یہ ہوا مجھے احساس غم کے ساتھمیں اس کے دم کے ساتھ ہوں وہ میرے دم کے ساتھ
غمزۂ حسن کی قسم تیرا کرم کہاں نہیںدیدۂ تر بتائے گا دل کو اگر زباں نہیں
ایک دلیل عشق ہے آہ نہیں فغاں نہیںاس کے سوا تو اور کچھ وہم نہیں گماں نہیں