دل کو غم سے حذر نہ ہو جائے
دل کو غم سے حذر نہ ہو جائے
زندگی درد سر نہ ہو جائے
غم محبت اثر نہ ہو جائے
بے خبر باخبر نہ ہو جائے
جا ہی پہنچیں ہم اس کے کوچے میں
عقل اگر راہ بر نہ ہو جائے
ناامیدی بھی ساتھ چھوڑ نہ دے
دل بھی مفلس کا گھر نہ ہو جائے
دل کے داغوں کو تازہ کرنا ہے
شب غم کی سحر نہ ہو جائے
حال ناشادؔ کیا کہے کوئی
کہیں تم پر اثر نہ ہو جائے
ناشاد کانپوری