پھر ہوا سودا دل ناشاد کیا
پھر ہوا سودا دل ناشاد کیا
آ گیا بھولا کوئی پھر یاد کیا
ہم قفس کچھ سعی آزادی بھی کر
ہر گھڑی پھر شکوۂ صیاد کیا
بھا گئیں کیوں دہر کی رنگینیاں
ہو گیا ذوق نظر برباد کیا
عکس رنگیں ہے نگاہ شوق کا
اور شرح عالم ایجاد کیا
ذرے ذرے کا جگر ہے چاک چاک
اور ہوگی عشق کی روداد کیا
زندگی ہے وقف سعیٔ رائیگاں
اور مجھ ناشادؔ کی روداد کیا
ناشاد کانپوری