اب تو وہ مائل جفا بھی نہیں
اب تو وہ مائل جفا بھی نہیں
دل مرا ان کو بھولتا بھی نہیں
نگۂ ناز کہہ گئی سب کچھ
اور کہنے کو کچھ کہا بھی نہیں
کون لائے گا تاب لطف و کرم
دل تو شائستۂ جفا بھی نہیں
یاد تو تیری خیر کیا کرتے
بھول ہی جاتے یہ ہوا بھی نہیں
جانے کیوں جی رہے ہیں اہل وفا
آسرا سا کچھ آسرا بھی نہیں
یوں تو پیتا نہیں کبھی ناشادؔ
تم پلاؤ تو پارسا بھی نہیں
ناشاد کانپوری