آپ کی یاد عمر بھر آئی
آپ کی یاد عمر بھر آئی
ہم بھلایا کئے مگر آئی
دل کی ہر چوٹ پھر ابھر آئی
دیکھ کر ان کو آنکھ بھر آئی
کس نے تم کو بھلا دیا پیارے
آئی یاد اور عمر بھر آئی
جب کسی مہرباں نے پوچھا حال
دل دھڑک اٹھا آنکھ بھر آئی
لاکھ اخفائے غم کرو گے مگر
کیا کرو گے جو آنکھ بھر آئی
کر تو لیں ہم شراب سے توبہ
پھر طبیعت جو راہ پر آئی
تاب غم لائے کس کا تھا یہ جگر
یہ بلا عاشقوں کے سر آئی
کیوں قدم ڈگمگائے جاتے ہیں
ہم سفر کس کی رہ گزر آئی
سن کے ناشادؔ پیار کی باتیں
یاد کیا آئی آنکھ بھر آئی
ناشاد کانپوری