جھوٹی دنیا جھوٹی مایا
جھوٹی دنیا جھوٹی مایا
کون ہے اپنا کون پرایا
عمر گنوائی تھاہ نہ پائی
عشق میں کچھ بھی ہاتھ نہ آیا
پریم نگر کی ریت نئی ہے
جس نے کھویا اس نے پایا
ان کی خوشی ہے یاد نہ آئیں
ہم نے کب ان کو دل سے بھلایا
ٹوٹے دل کو جوڑ نہ پائے
اس کو دکھایا اس کو دکھایا
دے ہی دیا دل ان کو آخر
بیٹھے بٹھائے روگ لگایا
غم کے مارے ایسے سوئے
جاگ نہ پائے لاکھ جگایا
کون کسی کا تیرے سوا تھا
تو نے بیڑا پار لگایا
جان گئے ہم ناشادؔ آخر
جھوٹے جگ کی جھوٹی مایا
ناشاد کانپوری