خود تماشہ ہے خود تماشائی
خود تماشہ ہے خود تماشائی
حسن اپنا ہے آپ شیدائی
شوق نے پھر لگائی دل میں آگ
مژدہ اے زندگی بہار آئی
ہم کہاں اور کہاں تری محفل
ہے محبت کی کار فرمائی
اک تمنا تھی ان سے ملنے کی
عمر گزری مگر نہ بر آئی
عشق کی عظمتوں سے ناواقف
کر رہے ہیں ابھی جبیں سائی
اب کہاں جائیں کون پوچھے گا
تیرے دیوانے تیرے سودائی
ایک ناشادؔ کیا کہ عالم ہے
تیرا دیوانہ تیرا سودائی
ناشاد کانپوری