خوشا نصیب کہ ہے دل میں آرزو تیری
خوشا نصیب کہ ہے دل میں آرزو تیری
مشام جاں ہے معطر بسی ہے بو تیری
وہ اور ہوں گے جنہیں ہے نجات کی خواہش
شہید حسن ازل کو ہے آرزو تیری
غرض ہر ایک کو تیرا ہی خوشہ چیں پایا
گلوں نے رنگ اڑایا صبا نے بو تیری
ترے جمال کا کچھ ایسا رعب طاری تھا
صبا بھی چھو نہ سکی زلف مشکبو تیری
فریب خوردۂ دیوار و در نہیں ناشادؔ
کرے وہ دیر میں کیوں جا کے جستجو تیری
ناشاد کانپوری