خوشا نصیب کہ ہے دل میں آرزو تیری
کلام: ناشاد کانپوری
خوشا نصیب کہ ہے دل میں آرزو تیریمشام جاں ہے معطر بسی ہے بو تیری
وہ اور ہوں گے جنہیں ہے نجات کی خواہششہید حسن ازل کو ہے آرزو تیری
ذرا تم مسکرا تو دو کہ رنگ آسماں بدلے ناشاد کانپوری
مہمان شاعر: ناشاد کانپوری
خوشا نصیب کہ ہے دل میں آرزو تیریمشام جاں ہے معطر بسی ہے بو تیری
وہ اور ہوں گے جنہیں ہے نجات کی خواہششہید حسن ازل کو ہے آرزو تیری