5 اشعار

خوشا نصیب کہ ہے دل میں آرزو تیری

Khusha naseeb ke hai dil mein aarzoo teri

خوشا نصیب کہ ہے دل میں آرزو تیریمشام جاں ہے معطر بسی ہے بو تیری

وہ اور ہوں گے جنہیں ہے نجات کی خواہششہید حسن ازل کو ہے آرزو تیری

غرض ہر ایک کو تیرا ہی خوشہ چیں پایاگلوں نے رنگ اڑایا صبا نے بو تیری

ترے جمال کا کچھ ایسا رعب طاری تھاصبا بھی چھو نہ سکی زلف مشکبو تیری

فریب خوردۂ دیوار و در نہیں ناشادؔکرے وہ دیر میں کیوں جا کے جستجو تیری

— ناشاد کانپوری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں