ایسی تنہائی ہے اپنے سے بھی گھبراتا ہوں میں
کلام: علی جواد زیدی
ایسی تنہائی ہے اپنے سے بھی گھبراتا ہوں میںجل رہی ہیں یاد کی شمعیں بجھا جاتا ہوں میں
آ گئی آخر غم دل وہ بھی منزل آ گئیمجھ کو سمجھاتے تھے جو اب ان کو سمجھاتا ہوں میں
زندگی آزادہ رو بحر حقیقت بے کنار علی جواد زیدی
مہمان شاعر: علی جواد زیدی
ایسی تنہائی ہے اپنے سے بھی گھبراتا ہوں میںجل رہی ہیں یاد کی شمعیں بجھا جاتا ہوں میں
آ گئی آخر غم دل وہ بھی منزل آ گئیمجھ کو سمجھاتے تھے جو اب ان کو سمجھاتا ہوں میں