جنوں سے راہ خرد میں بھی کام لینا تھا
کلام: علی جواد زیدی
جنوں سے راہ خرد میں بھی کام لینا تھاہر ایک خار سے اذن خرام لینا تھا
فراز دار پہ دامن کسی کا تھام لیاجنون شوق کو بھی انتقام لینا تھا
زندگی آزادہ رو بحر حقیقت بے کنار علی جواد زیدی
مہمان شاعر: علی جواد زیدی
جنوں سے راہ خرد میں بھی کام لینا تھاہر ایک خار سے اذن خرام لینا تھا
فراز دار پہ دامن کسی کا تھام لیاجنون شوق کو بھی انتقام لینا تھا