غزل 13 اشعار

ایسی تنہائی ہے اپنے سے بھی گھبراتا ہوں میں

Aisi tanhai hai apne se bhi ghabrata hoon main

ایسی تنہائی ہے اپنے سے بھی گھبراتا ہوں میںجل رہی ہیں یاد کی شمعیں بجھا جاتا ہوں میں

آ گئی آخر غم دل وہ بھی منزل آ گئیمجھ کو سمجھاتے تھے جو اب ان کو سمجھاتا ہوں میں

زندگی آزادہ رو بحر حقیقت بے کنارموج آتی ہے تو بڑھتا ہی چلا جاتا ہوں میں

بزم فکر و ہوش ہو یا محفل عیش و نشاطہر جگہ سے چند نشتر چند غم لاتا ہوں میں

ذہن میں یادوں کے گلشن دل میں عزم جوئے شیراک نیا فرہاد پاتا ہوں جدھر جاتا ہوں میں

شب کے سناٹے میں رہ غیروں کے نغمے کی طرحاہل دل کی بستیوں میں آہ بن جاتا ہوں میں

ہمت افزا ہے ہر اک افتاد راہ عشق کیٹھوکریں کھاتا ہوں گرتا ہوں سنبھل جاتا ہوں میں

عشق اکثر مانگتا ہے نغمۂ عشرت کی بھیکاہل دنیا کی تہی دستی پہ شرماتا ہوں میں

شام تنہائی بجھا دو جھلملاتی شمع بھیان اندھیروں ہی میں اکثر روشنی پاتا ہوں میں

آج آغوش تمنا تھی شناسائے وصالرزم گاہ زندگی میں تازہ دم آتا ہوں میں

کوئی نازک ہاتھ بازو تھام لیتا ہے مراٹھوکریں کھاتا تو ہوں لیکن سنبھل جاتا ہوں میں

اپنے مٹنے کا بھی غم ہوتا ہے اس احساس سےمیں نہیں اپنا مگر تیرا تو کہلاتا ہوں میں

ہے سہانی کس قدر ان دوریوں کی چاندنیپوچھ لیتا ہے کوئی زیدیؔ تو اتراتا ہوں میں

— علی جواد زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں