غزل 14 اشعار

جنوں سے راہ خرد میں بھی کام لینا تھا

Junoon se raah-e-khirad mein bhi kaam lena tha

جنوں سے راہ خرد میں بھی کام لینا تھاہر ایک خار سے اذن خرام لینا تھا

فراز دار پہ دامن کسی کا تھام لیاجنون شوق کو بھی انتقام لینا تھا

ہزار بار نتائج سے ہو کے بے پروااسی کا نام لیا جس کا نام لینا تھا

علاج تشنہ لبی سہل تھا مگر ساقیجو دست غیر میں ہے کب وہ جام لینا تھا

جنوں کی راہ میں تدبیر سرخوشی کے لیےبس ایک ولولۂ تیزگام لینا تھا

شکستہ لاکھ تھی کشتی ہزار تھا طوفاںخیال میں کوئی دامن تو تھام لینا تھا

نسیم ایک روش تک پہنچ کے تھم سی گئیکہ ناشگفتہ کلی کا پیام لینا تھا

شب فراق میں بھی کچھ دیے چمکنے لگیںنگاہ شوق سے اتنا تو کام لینا تھا

ہزار بار تری بزم میں ہوا محسوسلیا جو غیر نے مجھ کو وہ جام لینا تھا

میں ایک جرعۂ مستی پہ صلح کیوں کرتامجھے تو جام میں ماہ تمام لینا تھا

غضب ہوا کہ ان آنکھوں میں اشک بھر آئےنگاہ یاس سے کچھ اور کام لینا تھا

کسی نے آگ لگائی ہو کوئی مجرم ہوہمیں تو اپنے ہی سر اتہام لینا تھا

نگاہ شوخ یہی فتح اور کچھ ہوتیجو گر رہے تھے انہیں بڑھ کے تھام لینا تھا

یہ بزم خاص کا عیش دو روزہ کیا ہوگاغم عوام سے عیش دوام لینا تھا

— علی جواد زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں