فائیٹر کی آواز میں
بیمار محبت کی دوا ہے کہ نہیں ہے
کلام: کیف بھوپالی · محفل: داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی · 2026-01-13
«بیمار محبت کی دوا ہے کہ نہیں ہے» کیف بھوپالی کا کلام ہے، جسے فائیٹر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی» میں 13 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 31 سیکنڈ ہے۔
بیمار محبت کی دوا ہے کہ نہیں ہےمیرے کسی پہلو میں قضا ہے کہ نہیں ہے
سنتا ہوں اک آہٹ سی برابر شب وعدہجانے ترے قدموں کی صدا ہے کہ نہیں ہے