5 اشعار

بیمار محبت کی دوا ہے کہ نہیں ہے

Bimar-e-mohabbat ki dawa hai ke nahin hai

بیمار محبت کی دوا ہے کہ نہیں ہے

«بیمار محبت کی دوا ہے کہ نہیں ہے» کیف بھوپالی کا کلام ہے، جسے فائیٹر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی» میں 13 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 31 سیکنڈ ہے۔

بیمار محبت کی دوا ہے کہ نہیں ہےمیرے کسی پہلو میں قضا ہے کہ نہیں ہے

سنتا ہوں اک آہٹ سی برابر شب وعدہجانے ترے قدموں کی صدا ہے کہ نہیں ہے

سچ ہے کہ محبت میں ہمیں موت نے ماراکچھ اس میں تمہاری بھی خطا ہے کہ نہیں ہے

مت دیکھ کہ پھرتا ہوں ترے ہجر میں زندہیہ پوچھ کہ جینے میں مزہ ہے کہ نہیں ہے

یوں ڈھونڈتے پھرتے ہیں مرے بعد مجھے وہوہ کیفؔ کہیں تیرا پتہ ہے کہ نہیں ہے

— کیف بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں