مقرر

فائیٹر

@AQEeLpathan92

24
پیش کردہ کلام
37
محفلوں میں شرکت
فائیٹر کی آواز میں

جو عمر تیری طلب میں گنوائے جاتے ہیں

کلام: سیماب اکبر آبادی · محفل: ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی · 2026-01-19

«جو عمر تیری طلب میں گنوائے جاتے ہیں» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے فائیٹر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی» میں 19 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

جو عمر تیری طلب میں گنوائے جاتے ہیںکچھ ایسے لوگ بھی دنیا میں پائے جاتے ہیں

لگاؤ ہے مری تنہائیوں سے فطرت کوتمام رات ستارے لگائے جاتے ہیں

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 غم مجھے حسرت مجھے وحشت مجھے سودا مجھے Gham mujhe hasrat mujhe wahshat mujhe sauda mujhe سیماب اکبر آبادی آواز میں دستیاب
  2. 03 یہ ہیں جو آستین میں خنجر کہاں سے آئے Ye hain jo aastin mein khanjar kahan se aaye محسن زیدی آواز میں دستیاب
  3. 04 قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ Qatl chhupte the kabhi sang ki deewar ke beech محسن نقوی آواز میں دستیاب
  4. 05 چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے Chashm-e-qaatil hamein kyunkar na bhala yaad rahe شیخ ابراہیم ذوق آواز میں دستیاب
  5. 06 بیمار محبت کی دوا ہے کہ نہیں ہے Bimar-e-mohabbat ki dawa hai ke nahin hai کیف بھوپالی آواز میں دستیاب
  6. 07 سوچتا ہوں رات جو سورج تھا دائیں ہاتھ میں Sochta hoon raat jo sooraj tha daayen haath mein کیف احمد صدیقی آواز میں دستیاب
  7. 08 وہ برگ خشک تھا اور دامن بہار میں تھا Woh barg-e-khushk tha aur daman-e-bahar mein tha محسن بھوپالی آواز میں دستیاب
  8. 09 اگلی گلی میں رہتا ہے اور ملنے تک نہیں آتا ہے Agli gali mein rehta hai aur milne tak nahin aata hai جمیل الدین عالی آواز میں دستیاب