فائیٹر کی آواز میں
یہ ہیں جو آستین میں خنجر کہاں سے آئے
کلام: محسن زیدی · محفل: بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی · 2026-01-18
«یہ ہیں جو آستین میں خنجر کہاں سے آئے» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے فائیٹر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی» میں 18 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔
یہ ہیں جو آستین میں خنجر کہاں سے آئےتم سیکھ کر یہ خوئے ستم گر کہاں سے آئے
جب تھا محافظوں کی نگہبانیوں میں شہرقاتل فصیل شہر کے اندر کہاں سے آئے