مقرر

فائیٹر

@AQEeLpathan92

24
پیش کردہ کلام
37
محفلوں میں شرکت
فائیٹر کی آواز میں

یہ ہیں جو آستین میں خنجر کہاں سے آئے

کلام: محسن زیدی · محفل: بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی · 2026-01-18

«یہ ہیں جو آستین میں خنجر کہاں سے آئے» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے فائیٹر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی» میں 18 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

یہ ہیں جو آستین میں خنجر کہاں سے آئےتم سیکھ کر یہ خوئے ستم گر کہاں سے آئے

جب تھا محافظوں کی نگہبانیوں میں شہرقاتل فصیل شہر کے اندر کہاں سے آئے

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 غم مجھے حسرت مجھے وحشت مجھے سودا مجھے Gham mujhe hasrat mujhe wahshat mujhe sauda mujhe سیماب اکبر آبادی آواز میں دستیاب
  2. 02 جو عمر تیری طلب میں گنوائے جاتے ہیں Jo umr teri talab mein ganwaye jate hain سیماب اکبر آبادی آواز میں دستیاب
  3. 04 قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ Qatl chhupte the kabhi sang ki deewar ke beech محسن نقوی آواز میں دستیاب
  4. 05 چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے Chashm-e-qaatil hamein kyunkar na bhala yaad rahe شیخ ابراہیم ذوق آواز میں دستیاب
  5. 06 بیمار محبت کی دوا ہے کہ نہیں ہے Bimar-e-mohabbat ki dawa hai ke nahin hai کیف بھوپالی آواز میں دستیاب
  6. 07 سوچتا ہوں رات جو سورج تھا دائیں ہاتھ میں Sochta hoon raat jo sooraj tha daayen haath mein کیف احمد صدیقی آواز میں دستیاب
  7. 08 وہ برگ خشک تھا اور دامن بہار میں تھا Woh barg-e-khushk tha aur daman-e-bahar mein tha محسن بھوپالی آواز میں دستیاب
  8. 09 اگلی گلی میں رہتا ہے اور ملنے تک نہیں آتا ہے Agli gali mein rehta hai aur milne tak nahin aata hai جمیل الدین عالی آواز میں دستیاب