بیمار محبت کی دوا ہے کہ نہیں ہے
کلام: کیف بھوپالی
بیمار محبت کی دوا ہے کہ نہیں ہےمیرے کسی پہلو میں قضا ہے کہ نہیں ہے
سنتا ہوں اک آہٹ سی برابر شب وعدہجانے ترے قدموں کی صدا ہے کہ نہیں ہے
داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی
مہمان شاعر: کیف احمد صدیقی
بیمار محبت کی دوا ہے کہ نہیں ہےمیرے کسی پہلو میں قضا ہے کہ نہیں ہے
سنتا ہوں اک آہٹ سی برابر شب وعدہجانے ترے قدموں کی صدا ہے کہ نہیں ہے