مقرر

فائیٹر

@AQEeLpathan92

24
پیش کردہ کلام
37
محفلوں میں شرکت
فائیٹر کی آواز میں

سوچتا ہوں رات جو سورج تھا دائیں ہاتھ میں

کلام: کیف احمد صدیقی · محفل: تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی · 2026-01-12

«سوچتا ہوں رات جو سورج تھا دائیں ہاتھ میں» کیف احمد صدیقی کا کلام ہے، جسے فائیٹر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی» میں 12 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

سوچتا ہوں رات جو سورج تھا دائیں ہاتھ میںصبح کیسے ڈھل گیا وہ میرے بائیں ہاتھ میں

ہم اگر کچھ اور اپنے ذہن و دل روشن کریںدوستو یہ ماہ و انجم جگمگائیں ہاتھ میں

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 غم مجھے حسرت مجھے وحشت مجھے سودا مجھے Gham mujhe hasrat mujhe wahshat mujhe sauda mujhe سیماب اکبر آبادی آواز میں دستیاب
  2. 02 جو عمر تیری طلب میں گنوائے جاتے ہیں Jo umr teri talab mein ganwaye jate hain سیماب اکبر آبادی آواز میں دستیاب
  3. 03 یہ ہیں جو آستین میں خنجر کہاں سے آئے Ye hain jo aastin mein khanjar kahan se aaye محسن زیدی آواز میں دستیاب
  4. 04 قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ Qatl chhupte the kabhi sang ki deewar ke beech محسن نقوی آواز میں دستیاب
  5. 05 چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے Chashm-e-qaatil hamein kyunkar na bhala yaad rahe شیخ ابراہیم ذوق آواز میں دستیاب
  6. 06 بیمار محبت کی دوا ہے کہ نہیں ہے Bimar-e-mohabbat ki dawa hai ke nahin hai کیف بھوپالی آواز میں دستیاب
  7. 08 وہ برگ خشک تھا اور دامن بہار میں تھا Woh barg-e-khushk tha aur daman-e-bahar mein tha محسن بھوپالی آواز میں دستیاب
  8. 09 اگلی گلی میں رہتا ہے اور ملنے تک نہیں آتا ہے Agli gali mein rehta hai aur milne tak nahin aata hai جمیل الدین عالی آواز میں دستیاب