فائیٹر کی آواز میں
سوچتا ہوں رات جو سورج تھا دائیں ہاتھ میں
کلام: کیف احمد صدیقی · محفل: تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی · 2026-01-12
«سوچتا ہوں رات جو سورج تھا دائیں ہاتھ میں» کیف احمد صدیقی کا کلام ہے، جسے فائیٹر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی» میں 12 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔
سوچتا ہوں رات جو سورج تھا دائیں ہاتھ میںصبح کیسے ڈھل گیا وہ میرے بائیں ہاتھ میں
ہم اگر کچھ اور اپنے ذہن و دل روشن کریںدوستو یہ ماہ و انجم جگمگائیں ہاتھ میں