غم مجھے حسرت مجھے وحشت مجھے سودا مجھے
کلام: سیماب اکبر آبادی
غم مجھے حسرت مجھے وحشت مجھے سودا مجھےایک دل دے کر خدا نے دے دیا کیا کیا مجھے
ہے حصول آرزو کا راز ترک آرزومیں نے دنیا چھوڑ دی تو مل گئی دنیا مجھے
ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی
مہمان شاعر: سیماب اکبر آبادی
غم مجھے حسرت مجھے وحشت مجھے سودا مجھےایک دل دے کر خدا نے دے دیا کیا کیا مجھے
ہے حصول آرزو کا راز ترک آرزومیں نے دنیا چھوڑ دی تو مل گئی دنیا مجھے
جو عمر تیری طلب میں گنوائے جاتے ہیںکچھ ایسے لوگ بھی دنیا میں پائے جاتے ہیں
لگاؤ ہے مری تنہائیوں سے فطرت کوتمام رات ستارے لگائے جاتے ہیں