5 اشعار

جو عمر تیری طلب میں گنوائے جاتے ہیں

Jo umr teri talab mein ganwaye jate hain

جو عمر تیری طلب میں گنوائے جاتے ہیں

«جو عمر تیری طلب میں گنوائے جاتے ہیں» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے فائیٹر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی» میں 19 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

جو عمر تیری طلب میں گنوائے جاتے ہیںکچھ ایسے لوگ بھی دنیا میں پائے جاتے ہیں

لگاؤ ہے مری تنہائیوں سے فطرت کوتمام رات ستارے لگائے جاتے ہیں

سمائی جاتی ہیں دل میں وہ کفر بار آنکھیںیہ بت کدے مرے کعبے پہ چھائے جاتے ہیں

سمجھ حقیر نہ ان زندگی کے لمحوں کوارے انہیں سے زمانے بنائے جاتے ہیں

ہیں دل کے داغ بھی کیا دل کے داغ اے سیمابؔٹپک رہے ہیں مگر مسکرائے جاتے ہیں

— سیماب اکبر آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں