سوچتا ہوں رات جو سورج تھا دائیں ہاتھ میں
کلام: کیف احمد صدیقی
سوچتا ہوں رات جو سورج تھا دائیں ہاتھ میںصبح کیسے ڈھل گیا وہ میرے بائیں ہاتھ میں
ہم اگر کچھ اور اپنے ذہن و دل روشن کریںدوستو یہ ماہ و انجم جگمگائیں ہاتھ میں
تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی
مہمان شاعر: کیف احمد صدیقی
سوچتا ہوں رات جو سورج تھا دائیں ہاتھ میںصبح کیسے ڈھل گیا وہ میرے بائیں ہاتھ میں
ہم اگر کچھ اور اپنے ذہن و دل روشن کریںدوستو یہ ماہ و انجم جگمگائیں ہاتھ میں