7 اشعار

سوچتا ہوں رات جو سورج تھا دائیں ہاتھ میں

Sochta hoon raat jo sooraj tha daayen haath mein

سوچتا ہوں رات جو سورج تھا دائیں ہاتھ میں

«سوچتا ہوں رات جو سورج تھا دائیں ہاتھ میں» کیف احمد صدیقی کا کلام ہے، جسے فائیٹر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی» میں 12 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

سوچتا ہوں رات جو سورج تھا دائیں ہاتھ میںصبح کیسے ڈھل گیا وہ میرے بائیں ہاتھ میں

ہم اگر کچھ اور اپنے ذہن و دل روشن کریںدوستو یہ ماہ و انجم جگمگائیں ہاتھ میں

حل نہ ہو پایا اگر قحط زمیں کا مسئلہیہ بھی ممکن ہے کہ ہم فصلیں اگائیں ہاتھ میں

دشت چشم و قلب میں بھی جو نظر آتا نہیںآؤ ہم تم کو وہی منظر دکھائیں ہاتھ میں

جب حصار خوف سے آزاد ہو جاتا ہے دلقید ہو جاتی ہیں تب ساری بلائیں ہاتھ میں

جب مری سانسوں سے یہ ماحول یخ بستہ ہوامنجمد ہونے لگیں جلتی ہوائیں ہاتھ میں

شاعری کی یہ شب تاریک ڈھلتی ہی نہیںکیفؔ کب تک ہم چراغ فن جلائیں ہاتھ میں

— کیف احمد صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں