یہ ہیں جو آستین میں خنجر کہاں سے آئے
کلام: محسن زیدی
یہ ہیں جو آستین میں خنجر کہاں سے آئےتم سیکھ کر یہ خوئے ستم گر کہاں سے آئے
جب تھا محافظوں کی نگہبانیوں میں شہرقاتل فصیل شہر کے اندر کہاں سے آئے
بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی
مہمان شاعر: محسن زیدی
یہ ہیں جو آستین میں خنجر کہاں سے آئےتم سیکھ کر یہ خوئے ستم گر کہاں سے آئے
جب تھا محافظوں کی نگہبانیوں میں شہرقاتل فصیل شہر کے اندر کہاں سے آئے