8 اشعار

یہ ہیں جو آستین میں خنجر کہاں سے آئے

Ye hain jo aastin mein khanjar kahan se aaye

یہ ہیں جو آستین میں خنجر کہاں سے آئے

«یہ ہیں جو آستین میں خنجر کہاں سے آئے» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے فائیٹر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی» میں 18 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

یہ ہیں جو آستین میں خنجر کہاں سے آئےتم سیکھ کر یہ خوئے ستم گر کہاں سے آئے

جب تھا محافظوں کی نگہبانیوں میں شہرقاتل فصیل شہر کے اندر کہاں سے آئے

کیا پھر مجھے یہ اندھے کنویں میں گرائیں گےبن کر یہ لوگ میرے برادر کہاں سے آئے

یہ دشت بے شجر ہی جو ٹھہرا تو پھر یہاںسایہ کسی شجر کا میسر کہاں سے آئے

اسلوب میرا سیکھ لیا تم نے کس طرحلہجے میں میرا ڈھب مرے تیور کہاں سے آئے

ماضی کے آئنوں پہ جلا کون کر گیاپیش نگاہ پھر وہی منظر کہاں سے آئے

دور خزاں میں کیسے پلٹ کر بہار آئیپژمردہ شاخ پر یہ گل تر کہاں سے آئے

محسنؔ اس اختصار پہ قربان جائیےکوزے میں بند ہو کے سمندر کہاں سے آئے

— محسن زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں