6 اشعار

ایک گم سم فضا کے سواکچھ نہ تھا میری چپ چاپ حیرانیوں کے لیے

Ek gum sum fiza ke siwa kuch na tha meri chup chaap hairaniyon ke liye

ایک گم سم فضا کے سواکچھ نہ تھا میری چپ چاپ حیرانیوں کے لیے

«ایک گم سم فضا کے سواکچھ نہ تھا میری چپ چاپ حیرانیوں کے لیے» قتیل شفائی کا کلام ہے، جسے نگاہ بسمل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)» میں 28 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 25 سیکنڈ ہے۔

ایک گم سم فضا کے سواکچھ نہ تھا میری چپ چاپ حیرانیوں کے لیےاب کے ساون میں بھی میں ترستا رہا گنگناتے ہوئے پانیوں کے لیے

جب بھی نیکی بدی کا پڑا رَن کوئی جو بھی ناصح تھا وہ پیٹھ دکھلا گیاسہہ گئے ہم ہی محرومیوں کے ستم رہ گئے ہم ہی قربانیوں کے لیے

کیا خبرکیاخیال آیا صیاد کو، اس کے دل میں بھی اک نرم گوشہ بنااب رہائی کے پیغام آنے لگے تیرے خوددار زندانیوں کے لیے

جھونپڑوں میں سسکتی ہوئی بیویو! ہوں گے خالی تمھارے لیے وہ محلجو محل تاجداروں نے بنوائے ہیں اپنی پیاری مہارانیوں کے لیے

چاہے کوئی بھی ہو، کیوں خوشامد کریں، عاشقوں سے تو یہ کام ہوتا نہیںکوئی شاعر ہی بلوا لو دربار سے، گل رحو ںکی ثنا خوانیوں کے لیے

جوش پر ہے طبیعت قتیل آجکل سامنے جو بھی آیا وہ بہہ جائے گایہ ندی اک زمانے سے مشہور ہے اپنی منہ زور طغانیوں کے لیے

— قتیل شفائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں