ایک گم سم فضا کے سواکچھ نہ تھا میری چپ چاپ حیرانیوں کے لیے
کلام: قتیل شفائی
ایک گم سم فضا کے سواکچھ نہ تھا میری چپ چاپ حیرانیوں کے لیےاب کے ساون میں بھی میں ترستا رہا گنگناتے ہوئے پانیوں کے لیے
جب بھی نیکی بدی کا پڑا رَن کوئی جو بھی ناصح تھا وہ پیٹھ دکھلا گیاسہہ گئے ہم ہی محرومیوں کے ستم رہ گئے ہم ہی قربانیوں کے لیے