زمیں پھر درد کا یہ سائباں کوئی نہیں دے گا
کلام: ظفرگورکھپوری
زمیں پھر درد کا یہ سائباں کوئی نہیں دے گاتجھے ایسا کشادہ آسماں کوئی نہیں دے گا
ابھی زندہ ہیں ہم پر ختم کر لے امتحاں سارےہمارے بعد کوئی امتحاں کوئی نہیں دے گا
ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)
مہمان شاعر: ظفرگورکھپوری
زمیں پھر درد کا یہ سائباں کوئی نہیں دے گاتجھے ایسا کشادہ آسماں کوئی نہیں دے گا
ابھی زندہ ہیں ہم پر ختم کر لے امتحاں سارےہمارے بعد کوئی امتحاں کوئی نہیں دے گا
عشق میں کیا کیا میرے جنوں کی کی نہ برائی لوگو نےکچھ تم نے بدنام کیا کچھ آگ لگائیں لوگو نے
میرے لہو کے رنگ سے چمکی مہندی کتنے ہاتھوں پرشہر میں جس دن قتل ہوا میں عید منائی لوگو نے