6 اشعار

زمیں پھر درد کا یہ سائباں کوئی نہیں دے گا

Zameen phir dard ka yeh saiban koi nahin dega

زمیں پھر درد کا یہ سائباں کوئی نہیں دے گا

«زمیں پھر درد کا یہ سائباں کوئی نہیں دے گا» ظفرگورکھپوری کا کلام ہے، جسے نگاہ بسمل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)» میں 21 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

زمیں پھر درد کا یہ سائباں کوئی نہیں دے گاتجھے ایسا کشادہ آسماں کوئی نہیں دے گا

ابھی زندہ ہیں ہم پر ختم کر لے امتحاں سارےہمارے بعد کوئی امتحاں کوئی نہیں دے گا

جو پیاسے ہو تو اپنے ساتھ رکھو اپنے بادل بھییہ دنیا ہے وراثت میں کنواں کوئی نہیں دے گا

ملیں گے مفت شعلوں کی قبائیں بانٹنے والےمگر رہنے کو کاغذ کا مکاں کوئی نہیں دے گا

خود اپنا عکس بک جائے اسیر آئینہ ہو کریہاں اس دام پر نام و نشاں کوئی نہیں دے گا

ہماری زندگی بیوہ دلہن بھیگی ہوئی لکڑیجلیں گے چپکے چپکے سب دھواں کوئی نہیں دے گا

— ظفرگورکھپوری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں