انتظار حسین کی آواز میں
نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
کلام: مرزا غالب · محفل: دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب) · 2025-12-02
«نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)» میں 2 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 28 سیکنڈ ہے۔
نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتاڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
ہوا جب غم سے یوں بے حس تو غم کیا سر کے کٹنے کانہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا